شہ سرخیاں

مہندی لگانے کا ” گناہ ” کرنیوالی تیسری جماعت کی طالبہ کے بازوؤں پر بلیڈ چلاڈالے

قصور(بیورورپورٹ) مار نہیں پیار کے ماٹو پر عمل پیرا ٹیچر نے ہاتھوں پر مہندی لگانے کا ” گناہ ” کرنیوالی تیسری جماعت کی طالبہ کے بازوؤں پر بلیڈ چلاڈالے بچی کو بدترین تشددکانشانہ بنایا اور جب غریب گھرانے کی بچی والدہ کے ہمراہ داد رسی کے لیے پولیس چوکی پہنچی تو پولیس نے بھی چلتا کر دیا زخمی بچی کی والدہ عشرت بی بی کے مطابق ہوم ورک کیے بغیر اس کی بیٹی جو تیسری جماعت کی طالبہ ہے جب اسکول پہنچی تو ٹیچر طاہرہ نے پہلے بالوں سے پکڑ کر اسے تشددکانشانہ بنایا اور بعد ازاں ہاتھوں پر مہندی لگانے کے جرم میں اس کے بازوؤں پر بلیڈ سے کٹ لگا دیئے جس کے باعث حرا جاوید کے بازوؤں سے خون بہنے لگا مگر بہتا خون دیکھ کر بھی ٹیچر کو رحم نہ آیا اور وہ روتی چلاتی بچی کو مسلسل تشددکانشانہ بناتی رہی عشرت جاوید نے مقدمہ کے اندراج کے لیے پولیس کو دی گئی درخواست میں لکھا ہے کہ ٹیچر کے اس ظالمانہ سلوک اور محض مہندی لگانے پر بازوؤں پر زخم بنا دینے کی سزا دینے پر مقامی پولیس چوکی گئی تو پولیس نے قانونی کاروائی کرنے کی بجائے الٹا عشرت جاوید سے کہاکہ بچوں کو مار پڑتی رہتی ہے اور سکولوں میں تشدد معمول کی بات ہے اس لیے آپ مقدمہ کے اندراج کی بجائے ڈاکٹ نہ بنوائیں بلکہ آرام سے گھر چلے جائیں عشرت جاوید کے مطابق ڈیوٹی پر موجود تھانیدار عدنان نے اس کی داد فریاد سننے سے صاف انکار کر دیا اور ا نہیں چوکی سے نکال دیا گیا جب عشرت جاوید نے میڈیا کے نمائندوں کو اس امر سے آگاہ کیا اور اس ضمن میں مزید تفصیل جاننے کے لیے ایس ایچ او اے ڈویژن میاں منیر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہاکہ واقعہ میرے نوٹس میں ہے اور اس پر کاروائی کی جارہی ہے علاقہ کے مکینوں اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے مطالبہ کیا ہے کہ تیسری جماعت کی طالبہ کو تشددکانشانہ بنانے والی ٹیچر کے ساتھ ساتھ محکمانہ کاروائی نہ کرنیوالے پولیس افسران کیخلاف بھی ضا بطے کی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

Share this

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow