شہ سرخیاں

نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کو ٹیکسٹائل کے شعبہ کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے

فیصل آباد ( ) یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی ایجادات اور ٹیکنالوجی کی کمرشلائزیشن اور ان کے متعلقہ صنعتوں میں استعمال سے ہی جدید صنعتی انقلاب کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے اور اس سلسلہ میں نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی اور ڈائس کی عملی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر انجینئر احمد حسن نے این ٹی یو میں دوسرے آل پاکستان ڈائس ٹیکسٹائل انوویشن ایگزیبیشن کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ کپاس پاکستان کی واحدنقد آورفصل ہے جو پاکستان کے تمام معاشی ، سماجی اور ترقیاتی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کا خام مال زراعت سے آتا ہے جہاں لاکھوں مزدور ان کی کاشت اور چنائی میں حصہ لیتے ہیں۔ اس طرح دھاگے سے شروع ہونے والا ٹیکسٹائل سیکٹر فیشن گارمنٹس تک کے 16 مختلف مراحل میں سے گزرنا ہوتا ہے۔ ایک روپے میں ہزار روپے کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں لوگوں کو براہ راست اور بلواسطہ طور پر روزگار بھی مہیا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد اور نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کو ٹیکسٹائل کے شعبہ کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے 1958 اور 1990 کی دہائیوں کا خاص طور پر ذکر کیا جب ٹیکسٹائل کے شعبہ نے حیرت انگیز ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس وقت بھی فیصل آباد کو ٹیکسٹائل کے شعبہ میں نمایاں مقام حاصل ہے لیکن اس کے بعد عالمی اور ملکی حالات کی وجہ سے یہ شعبہ تقریباً زوال پذیر ہے۔ انہوں نے 2014 ء میں یورپین یونین کی طرف سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنا، 2016 کے مالی سال سے ٹیکسٹائل سمیت 5 اہم برآمدی شعبوں کو زیرو ریٹ کرنے، صنعتوں کو چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی، 180 ارب روپے کے ٹیکسٹائل پیکیج اور سستے سرمائے کی فراہمی کے باوجود برآمدات میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال تاجروں، صنعتکاروں اور برآمدکنندگان کے ساتھ ساتھ پالیسی ساز اداروں اور یونیورسٹیوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے ڈائس ایگزیبیشن کے انعقاد کو ٹیکسٹائل سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی سمت اہم پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ حکومت اور نجی صنعتی شعبہ کو این ٹی یو کے ساتھ مل کر ٹیکسٹائل کی پوری ویلیو چین کی پائیدار بنیادوں پر اپ گریڈیشن کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنا ہوگی تاکہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے علاوہ ملکی ضروریات کیلئے قیمتی زر مبادلہ بھی کمایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں سے ملک میں پیداواری لاگت بتدریج کم ہو رہی ہے جبکہ معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ہے تاہم سی پیک کے تناظر میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو اپنی بقاء کیلئے جدیدیت کی طرف بڑھنا ہوگا اور اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انڈسٹری اور اکیڈیمیا کے درمیان رابطوں کو بڑھایا جائے۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور این ٹی یو کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یاد داشت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس سے عملی طور پر فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دونوں اداروں کے درمیان مستقل رابطوں کیلئے فیصل آباد چیمبر میں ٹیکسٹائل کارنر قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی تا کہ دونوں اداروں کے باہمی تعاون سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل کو حل کیا جا سکے۔

Share this

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow