شہ سرخیاں

ماہ رمضان ، ایک وعدہ جو ہمیں کرنا ہے

ودیا مسکان ، راولپنڈی
یوں تو رمضان کی آمد آمد ہے ہر طرف ایک ہی بحث جاری ہے کہ رمضان میں کیا خاص کریں۔ کوئی کچھ خاص پکانے کے لیے تراکیب تلاش کررہا ہے تو کوئی دوسرے شہروں سے اپنی مرغوب چیزیں منگوا کر رمضان کا اہتمام کررہا ہے۔ ساتھ ساتھ کچھ لوگ ایسے بھی ملیں گے جو ابھی تک بے فکر ہیں اگر ان سے رمضان کے بارے میں پوچھا جائے تو ان میں سے کچھ تو حیلے بہانے بنا کر روزوں سے جان چڑا لیتے ہیں مگر کچھ لوگوں کا بڑا صاف سا جواب ہوتا ہے ”کہ جناب ےہ بھوک فاقے ہم سے نہیں ہوتے ۔ معذرت کے ساتھ مگر ےہ جواب زےادہ تر ہمارے امیر اور سو کالڈ ماڈرن طبقہ سے سننے میں آتا ہےں۔
کچھ لوگ تو ایسے بھی کہ روزے تو رکھنے کے بعد تو ایسی حالت ہوتی ہےں جیسے اللہ تعالی پر خوب احسان کر لیتے ہیں ۔ مگر بجائے رمضان کے اس رحمتوں والے مہینے میں عبادت کے، روزہ رکھ کر لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔ ان کا معمول ےہ ہوتا ہے کہ ےہ لوگ روزہ رکھ کر رات جاگ کر اور دن سو کر گزارتے ہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ کو دھوکا دے رہے ہو ں کہ لو بندکر لےا کھانا پینا بنداب ہم جو بھی کریں آزاد ہےں ۔
ایسے روزے کا کیا فائدہ۔کےا اللہ تعالی کو تمہاری بھوک پیاس سے مطلب ہے ؟ یہ تو آزمائش ہے ، ےہ تو اللہ تعالی کا انعام ہے کہ محسوس کرو ےہ خوشی جو روزہ افطار اور روزے رکھنے کے بعد عید پر ملتی ہے ۔ امتحان ہے کہ کیسا لگتا ہے جن کو دو وقت کا کھانا نہیں ملتا اور وہ اپنے پیٹ کے عذاب بھرنے کے لیے اک مخصوص وقت کا انتظار کرتے ہیں۔اگر سو کر ہی گزارنا ہے رمضان تو اس سے بہتر تھا کہ روزہ نہ ہی رکھا جائے۔
رمضان تو رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہےں۔ ماہ رمضان میں تو شیطانوں کو زنجیروں سے جکڑا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ رمضان میں تو ہر سو رحمتیں نازل ہوتی ہے پھر ہم اس کو سوتے ہوئے کیوں ضائع کریں۔ رمضان میں تو اک نماز کی جزا کئی گناہ زےادہ ہوتی ہے پھر ایسے مہینے میں ہماری نیند بہت ضروری ہے ؟ کیا ہم پورے سال میں صرف 30دن روزہ رکھ کا اپنے معمولات نہیں چلاسکتے؟ سب کچھ ممکن ہے اگر ہم حقیقی معنوں میں عبادت کی طرف خود کو راغب کرلیں تو۔
قارئین! ہمارے ہر فعل کی ذمے دار ہم خود ہیں۔ ہمارے بدلے نہ کسی کو جزا ملنی ہے نہ سزا دی جائے گی۔ پھر کیوں ہم خود کو دھوکا دے۔ آیئے! اپنے رمضان کو خوبصورت بناتے ہیں۔ آئیں اس رحمتوں کے مہینے میں خود کو اللہ کی رحمت سے مستفید کرتے ہیں۔ خود سے وعدہ کریں کہ ایک ایسا روزہ رکھیں گے جو ہمارے اللہ کو پسندہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ان پڑوسےوں اور مستحق لوگوںکا بھی خےال رکھیںگے ۔ جو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے خاموش رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک مرتبہ پھر سے اپنا محاسبہ کرنے کا موقع عطا کیا ہے۔ الگ تھلگ بیٹھ کر اپنے رب سے اپنے گناہوں کی توبہ کریں۔ اپنے آپ کی اصلاح کی کوشش کریں اور وعدہ کریں کہ اس کے بعد ہم آئندہ رمضان تک اپنے آپ کو ناجائزہ اور گناہ کے کاموں سے بچائیں گے۔ ہمیں یہ روزہ ایک درس دیتا ہے کہ اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھیں۔ ان کی بھوک اور پیاس کا خیال رکھیں۔ گاہے بگاہے ان سے پوچھتے رہا کریں کہ انہیں ہماری ضرورت تو نہیں۔ اگر ہم اس درس پر عمل کرگئے تو یقینا ہم نے روزے کا صحیح معنوں میں حق ادا کردیا۔

Share this

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow