شہ سرخیاں

یہ خونی کھیل کب تک جاری رہے گا

تحریر :مولانا محمد امین انصاری (بانی سیکریٹری جنرل متحدہ علماء محاذ پاکستان)
سٹرکوں کی مخدوش صورتحال اور تعمیراتی کاموں کے باعث ٹریفک جام یوں تو روز کا معمول ہے مگربعض مقامات پر ٹریفک پولیس کی غفلت اور مقامی ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت نے ٹریفک کے اژدھام کو عوام کے لیے سوہان روح بنا دیا ہے ۔بالخصوص ماہ صیام میں روزہ داروں کا ٹریفک جام میں پھنس جانا اور سٹرکوں پر ہی افطا ر ہو جانا معمول بنتا جا رہا ہے ۔سگنل فری کوریڈور صدر اور راشد منہاس روڈ جیسی کشادہ گزر گاہیں بھی تنگ اور شدید تکلیف کا باعث بن رہی ہیں ۔سگنل فری کوری ڈور عوام کو کم وقت میں انکی منزلوں تک پہنچانے کے لیے تعمیر کی گئی تھی مگر پتھارا مافیااور ٹریفک و ضلعی حکام کی ملی بھگت اور کڑوڑوں روپے کی بھتہ وصولی کے باعث شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈال رہی ہے کیوں کہ اسی کوری ڈور سے ایک راستہ جناح ہسپتال کو جاتا ہے جس پر ہر لمحہ کوئی نہ کوئی ایمبو لینس مریضوں کو فوری طبی امداد کے لیے لے کر گزرتی ہے مگر اس ہجوم میں پھنس جانے کے باعث ایمبولینس میں ہی دم توڑ جاتے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔کاغذی اور دکھاوئے کے طور پر پتھارے ہٹائے جانے کا عمل چند گھنٹو ں پر محیط ہوتا ہے جس کے بعد صورتحال ناگفتہ بہ ہوجا تی ہے ۔اسی کوری ڈور پربدھ اور ہفتہ کے روز سرکاری بچت بازار بھی سٹرک کے بیچوں بیچ لگایا جاتا ہے جو کسی طرح اخلاقی اور قانونی جواز نہیں رکھتا۔نیپا چورنگی سے فیڈرل بی ایریا کو ملانے والی راشد منہاس روڈ محض ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے کاروبار کو چمکانے کے لیے ہزراوں لوگوں کی جان کا خطرہ بن چکی ہے ۔گزشتہ سال موتی محل کے بالمقابل بننے والا یہ ڈپارٹمنٹل اسٹور متعدد افراد کی جانیں لے گیا ۔عوام کے شدید احتجاج پر کمشنر کراچی اور ضلعی انتظامیہ نے اسٹور کے مالک امتیاز کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اسے پارکنگ کا انتظام کرنے کے علاوہ رمضان میں اوقات کار کی بھی پابندی کا حکم دیا تھا مگر مبینہ طور پر بھاری رشوت کی وصولی کے عوض اس اسٹور کا مالک ہر قسم کی غیر قانونی حرکت اور اخلاقی پابندی سے آزاد لوگوں کی جانیں لینے میں آزاد نظر آتا ہے ۔واضح رہے کہ امتیاز اسٹور شہر کا واحد ڈپارٹمنٹل اسٹور ہے جو کشادہ کار پارکنگ کے بغیر سٹرک کنارے کاروبار کر رہا ہے ۔بہادر آباد ناظم آباد کے بعد راشد منہاس روڈ پر قائم کیا جانے والا یہ اسٹور گزر گاہوں کے علاوہ اطراف میں رہنے والوں کے لیے بھی عذاب کا باعث بنا ہو ہے ۔راشد منہاس روڈ کی جس عمارت میں یہ اسٹور قائم ہے اس کے نقشہ کے مطابق زیر زمین کار پارکنگ بنائی گئی تھی مگر متعلقہ حکام کی ملی بھگت سے اس کار پارکنگ کو بھی زیر زمین اسٹور کا حصہ بنا دیا گیا ہے جو بلڈنگ رولز کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔چنانچہ صبح سے رات گئے تک یہاں خریداروں کی گاڑیو ں کا ہجوم ٹریفک میں خلل کا باعث بن رہا ہے مزید برآں گزشتہ سال ماہ رمضان کے لیے مذکورہ اسٹور کو جس اوقات کار کی پابندی کا کاغذی حکم نامہ دیا گیا تھا اس سال رمضان میں اس پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ۔مذکورہ اسٹور کے مالک کا دعویٰ ہے کہ اس کے اثر و رسوخ کے باعث قانون اور ضلعی انتظامیہ اس کے گھر کی لونڈی ہیں ۔شہر ی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کے محض ایک شخص کے ذاتی کاروبار کو چمکانے کے لیے حکمران اور قانون نافذ کرنے والے بعض کرپٹ و راشی ادارے و افرادآخر کب تک شہریوں کی جان و مال سے کھیلتے رہیں گے ۔جو قانون ایک دوکان دار پر گرفت نہیں کر سکتا وہ شہریوں کو دہشت گردوں کے حملوں سے کیسے بچا سکتا ہے ؟ان کا یہ اندیشہ قابل غور ہے کہ اگرٹریفک جام کے دوران کوئی دہشت گرد یا خودکش حملہ آور ٹریفک میں پھنسے لوگوں پر حملہ کرنا چاہے تو یہ ان کے لیے سافٹ ٹارگٹ ثابت ہونگے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ مذکورہ دوکان دار کو قانون کا پابند بنایا جائے اور اسے لوگوں کی جان و مال سے کھیلنے کا یہ گھناؤنا دھندا کرنے سے بزور قانونی طاقت روکا جائے تاہم معلوم ہوتا ہے کہ بدعنوان اور رشوت خور انتظامیہ کسی سانحہ کا انتظار کر رہی ہے۔قبل اس کے کہ کوئی جان لیوا حادثہ خدا نا خواستہ پیش آئے امتیاز نامی ڈپارٹمنٹل اسٹور کو فی الحال فوری طور پر اس وقت تک لیے سیل کردیا جائے جب تک اسٹور کے مالک امتیاز تمام تر قانونی تقاضوں کو شفاف طریقہ سے پورا نہ کردے تاکہ ممکنہ ناگہانی حادثہ و آفت سے یقینی طور بچا جا سکے ۔ وزیر اعلیٰ ،گورنر سندھ ،کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز اس اہم اور حساس مسئلہ پر خصوصی توجہ فرما کر فوری ایکشن لیں ۔اور ماہ رمضان میں لاکھوں روزہ داروں کی دعاؤ ں کے حق دار بنیں ۔

Share this

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow