شہ سرخیاں

’’کون ہے مشرقی وسطیٰ کی کشیدگی کا ذمہ دار؟‘‘

ان دنو مشرقی وسطیٰ کی صورت حال کافی کشیدہ ہے، ایک طرف اسلامی اتحاد جس کو امریکا کی سپورٹ حاصل ہے، تو دوسری طرف ایران،شام،عراق، لبنان اور اس کے ساتھ روس کی بھر پور حمایت کے طورپر ایک پانچ ملکی اتحادقائم ہوا ہے۔ یہ دونوں اتحاد مسلسل ایک دوسرے پر دہشتگردی کے الزامات لگا رہے ہیں، اسلامی اتحاد کہتا ہے کہ ایران ہی اصل میں مشرقی وسطیٰ کے تمام دہشتگردوں کا سرپرست اعلیٰ ہے جبکہ ایران سعودی عرب کو دہشتگردی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
’’کون ہے مشرقی وسطیٰ کی کشیدگی کا ذمہ دار؟‘‘ ایران یا سعودی عرب؟ اس کے لئے ہمیں ماضی میں دیکھنا ہوگا۔ دور نبوت ﷺ سے لیکر آج تک وہ کونسا ملک ہے جو اسلامی لبادہ اُوڑھ کر اسلام اور مسلم ملکوں کی جڑیں کھوکلی کرنے میں مصروف ہے ؟ نبی اکرم ﷺ کے دور میں ایران اور ایرانی حکمرانوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کی تھیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب اسلامی فوج نے ایران کو فتح کیا تو سیدنا عمر فاروق رض عنہ نے ایرانی سپاسالار ہر مان (جو اسلامی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہواتھا)سے پوچھا کہ پہلے تو تم لوگوں نے کبھی بھی عربوں سے شکست نہیں کھائی تھی اب کیا ہوا تو ہرمان نے جواب دیا کہ پہلے جنگیں قومیت کے نام پر تھیں لیکن اس میں مسلمانوں کے ساتھ ان کے خدا کی مدد شامل حال تھی۔ کہا کہ میں نے میدان جنگ میں مسلمانوں کاجذبہ شوق شہادت دیکھا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ ایران نے دردناک شکست کھانے کے بعد ایرانیوں نے مسلمانوں کے خلاف انتقام کی وہ داستان شروع کی جو آج تک جاری ہے ۔
ایرانیوں نے عربوں اور مسلمانوں سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ایک سازش رچی جس کے تحت ابو لولو فیروزنامی ایک ملحد کو مسلمان افواج کے ہاتھوں گرفتار کر وایا اور مدینہ منورہ روانہ کیا (ابولولوجنگ نہادند میں قید ہوا تھا)مدینہ پہنچانے کے بعد ابولو لو فیروز کو مغیرہ بن شعبہ ر ضی اللہ عنہ کے حوالے کیا گیا، ابولو لونے ظاہراََ اسلام قبول کیا تھا لیکن اندر سے وہ انتقام کی بھٹی میں جل رہا تھا اور کسی صحیح موقع کی تلاش میں تھا آخرکار وہ موقع اس کو ستائیس ذوا لحجہ کو ملا جب فجرکی نماز میں اس نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دوران نماز خنجر مارکر زخمی کر دیا اور اس ہی خنجر سے خود کو ہلاک کیا، بعد میں یکم محرم الحرام کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوگئے۔ آج بھی ابولولو فیروز کا مزار ایران میں ہے اور ایرانی اس کو اپنا ہیرو نمبر ون مانتے ہیں۔ اگرسیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو چند سال کی مہلت مل جاتی تو آج اسلامی دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا،سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ایرانیوں کیلئے میدان صاف تھا۔ 35ھ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے امت میں ایک ایسا فتنہ کھڑا کردیا جو بقول خلیفہ ثالث (سیدناعثمان رضی اللہ عنہ) تا قیامت جاری رہے گا۔
اس کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو اختلافات اور جنگیں ہوئی ان میں ایران اور ایرانیوں کا براہراست ہاتھ تھا، خلافت عباسہ کے خلاف تمام تر سازشوں کا مرکز بھی ایران ہی تھا، سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ پر قاتلانہ حملہ کرنے والا شخص بھی ایرانی تھا۔ ہلاکو خان کو عراق اور شام پر حملہ کرنے کی دعوت دینے والے بھی یہی ایرانی ہی تھے، جن کی ایمائپر ہلاکو خان نے حلب میں انسانوں کے سرو ں کا مینار قائم کیا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازشوں میں ایران پیش پیش رہا۔
قارئین: ایران جو ایک اسلامی ملک ہے اور کچھ ادوار میں اسلامی سلطنت کا حصہ بھی رہا ہے لیکن ہمیشہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور ان کو آپس میں لڑا نے کی سوچ رکھتا ہے، یہ تو ماضی کی مختصرسی تاریخ تھی ایران کی لیکن اگر صحیح معنی میں دیکھیں تو ایران کی تاریخ اس سے بھی بدتر ہے۔ اب آتے ہیں موجودہ دور کی طرف اس میں بھی ایران کی مکاری واضح ہے لیکن اگر کوئی آنکھیں بند کردے249سن کر ان سنا کرد ے تو اس کو ہم کیا کہہ سکتے ہیں، یہ اس کا جمہوری حق ہے۔ امریکا جو ظاہر ی طور پر اسلامی اتحاد کے ساتھ کھڑا ہے مگر در پردہ ایران کے ساتھ ہے، ایران لاکھ دعوے کریکہ امریکا ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے لیکن اس کے اس دعوے میں رتی بر بھی سچائی نہیں ہے، امریکا نے افغانستان پر حملے کی دھمکی دی اور حملہ کردیا، عراق کو دی اور حملہ کرکے لاکھوں بیگناہ مسلمانوں کو شہید کیا، لیکن جب سے ایران میں خمینی انقلاب آیا ہے تب سے ہی امریکا ایران پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے لیکن کر نہیں رہا۔ جبکہ جو پالیسی امریکا کی ہے وہی پالیسی ایران کی بھی ہے، اس وقت یہ دونوں ممالک عالمی خودمختاریوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، امریکا جب چاہے کسی بھی ملک میں ڈرون حملہ کردیتا ہے، کسی بھی ملک میں سی آئی اے یا بلیک واٹر کے اہلکار اتار دیتا ہے، اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگا نے میں اور کسی بھی ملک میں منتخب حکومت کو گرانے میں امریکا کا کوئی ثانی نہیں۔ امریکا کے ظلم کی داستان کے لئے یہ مضمون بہت کم ہے بس سادی سی بات ہے کہ امریکا دنیا میں اپنی اجارداری چاہتا ہے، وہی ایران بھی چاہتا ہے لیکن صرف مشرقی وسطیٰ میں، اسی مقصد کے لئے اس نے عراق میں صدام حسین کے ساتھ کئی برسوں تک جنگ لڑی اس بے نتیجہ جنگ میں لاکھوں انسان مارے گئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، ایران امریکا کے کندھوں کے سہارے عراق میں جا بیٹھا، کرد اور نسلی امتیاز کو ہوا دی ساتھ ہی ساتھ فرقہ ورانہ بنیاد پر عراق کو ایک نہ ختم ہونے والے جنگ میں جونک دیا، یمن میں خوثیوں کا ساتھ دیکر سعودی عرب سے اپنے چودہ سو سالہ پرانی دشمنی کو تازہ رکھنا چاہتا ہے، شام میں بے گناہ لوگوں کو اپنے مقصد کے لئے مار رہا ہے اور ان کے جسموں کو گیدڑکی طرح بھنبھوڑ رہا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی کئی دہشتگردی کے واقعات میں ایران ملوث ہے، کلبھوشن اور عزیر بلوچ کے علاوہ اور بھی کئی ملک دشمنوں کو ایران نے ہی پناہ دے رکھی ہے، پاکستان کے کئی نامور علماء کے قاتل آج بھی ایران میں ان کی ایجنسیوں کے ساتھ ہیں۔
سیدھی سے بات یہ ہے کہ ایران سعودی عرب سے اپنی اس شکست کا بدلہ لے نا چاہتا ہے جو سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایران کو ہوئی تھی ۔
ان تمام تر حقایق کے بعد قارئین آپ تو سمجھ ہی گئے ہونگے کہ ’’کون ہے مشرقی وسطیٰ کی کشیدگی کا زمہ دار؟‘‘ کیا چاہتا ہے ایران کیوں امریکا کی طرح مشرقی وسطیٰ کی تباہی پر تلا ہوا ہے ، کیو ں اپنے ہزاروں فوجیوں کو دوسرے ممالک میں مزحمتی تحریکوں سے ہلاک کروا رہا ہے، ان میں کئی جنرل اور بریگیڈربھی شامل ہے ، اس کی ایک وجہ اپنی پرانی دشمنی اور دوسری اپنے ملک کو محفوظ کرنے کے لئے اپنی جنگ دوسرے ممالک میں لڑنا ، یہی پالیسی امریکا کی بھی ہے ۔
یا اللہ ہم تمام مسلمانوں کی بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت فرما : (آمین)

Share this

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow