شہ سرخیاں

روزہ تزکیہ نفس کا ایک ذریعہتحریر: رینا رفعت انفارمیشن آفس

رمضان المبارک ہزاروں برکتوں اور رحمتوں کواپنے دامن میں لئے ہم پر سایہ فگن ہے اور یہ مہینہ ایمان و تقوی کا مہینہ ہے‘ ہر بندہ مومن اپنی اپنی ہمت اور ظرف کے مطابق اس کی برکتوں سے لطف اندوز ہورہا ہے۔ اس مبارک مہینے کو اللہ تعالی حق تعالی وشانہ نے اپنا مہینہ فرمایاہے گویا اس ماہ مبارک میں اللہ تعالی انسان کو اپنا بندہ بناناچاہتے ہیں اور انسان کو اس طرف متوجہ کیا جاتاہے کہ وہ اپنے خالق ومالک سے ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑ لے۔ اس مہینے میں رحمت خداوندی کا دریا موجزن ہوتاہے اور ہر طالب رحمت کے لئے آغوش رحمت وا ہوجاتی ہے۔
حدیث شریف میں فرمایاگیا ہے
’’اس کا پہلا عشرہ رحمت‘ دوسرا بخشش اور تیسرا دوزخ سے آزادی ہے‘‘
یہ نورانیت میں اضافے روحانیت کی ترقی اجر و ثواب میں زیادتی اور دعاؤں کی قبولیت کا مہیبنہ ہے اس میں کسی سائل کو خالی ہاتھ کسی امیدوار کو نامید اور کسی طالب کو ناکام و نامراد نہیں رکھا جاتا بلکہ ہر شخص کے لئے اس مہینے میں حق تعالی شانہ کی طرف سے رحمت و بخشش کی صدائے عام ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کے مقبول بندے سال بھر اس ماہ مبارک کی آمد کے لئے چشم براہ رہتے ہیں اور جو شخص ان بابرکت اوقات میں بھی رجوع الی اللہ کی دولت سے محروم ہے اور دریائے رحمت کی طغیانی کے باوجود حصول رحمت کیلئے اپنا دامن نہ پھیلائے اس سے بڑھ کر محروم کون ہوسکتا ہے؟۔ ایک مومن کا لائحہ عمل اس ماہ مبار میں یہ ہونا چاہئیے رمضان المبارک کے خصوصی اعمال‘ روزہ‘ تراویح‘ تلاوت قرآن کریم‘ ذکر الہی ‘ دعا و استغفار کا خصوصی اہمتام کیا جائے۔ اس مہینے میں جھوٹ بہتان‘ غیبت‘ حرام خوری اور دیگر تمام آلودگیوں سے پرہیز کا پورا اہتمام کیا جائے۔ حدیث میں فرمایاگیا ہے
جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنے اور غلط کام کرنے سے پرہیزنہ کرے اللہ تعالی کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں‘‘
اس ماہ میں قلوب کا تصفیہ بھی بہت ضروری ہے جس دل میں کینہ حسد بغض عداوت کا کھوٹ اور میل جمع ہو اس پر اس ماہ مبارک کے انوار کی تجلی کماحقہ نہیں ہوسکتی۔
آنخضرت محمد ؐ نے ماہ رمضان کو ہمدردی غم خواری کا مہینہ فرمایاہے اسی لئے اس مہینہ میں جود وسخا اور عطا وبخشش عام ہونی چا ہئیے۔ جن لوگوں کواللہ تعالی نے استطاعت فرمائی وہ اس مہینہ میں تنگدستوں اور محتاجوں کی بطور خاص نگہداشت کریں۔ اس مقدس ماہ کا چاند نظر آتے ہی مسلمان گھرانوں میں فرحت و انبساط کے دریا موجیں مارنے لگتے ہیں بازاروں میں سحری وافطاری کے سامان کی خریداری کے لئے لوگو ں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔
وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے اس مقدس ماہ کے احترام اور صوبہ بھر کی عوام پر عام وخاص افرا دکیلئے رمضان ریلیف پیکیج کے تحت مناسب نرخوں پرمعیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی کویقینی بنانے کے لئے 319 رمضان بازاروں کے انعقاد کااعلان کیاہے جو کہ تاریخ کا سب سے بڑا رمضان خدمت پیکیج ہے۔حکومت پنجاب کی طرف سے ان بازاروں میں آٹا پھل سبزی گوشت ودالیں انڈے چینی کھجور اور دیگر اشیائے ضروریہ کے لئے 9 ارب روپے کی خطیر اور مثالی سبسڈی دی ہے۔ سستے آٹے کی فراہمی کیلئے آٹھ ارب 78 کروڑ روپے کی بے مثال سبڈی دی ہے جس میں 10 کلو آٹے کا تھیلا 125 روپے کی سبڈی پر250 روپے اور 20 کلو آٹے کا تھیلا250 روپے کی سبڈی پر 500 روپے میں دستیاب ہوگا۔ چنے کی دال‘ بیسن سیب‘ کیلا‘ کھجور‘ مارکیٹ سے بیس روپے کلو کم چینی آٹھ روپے کی رعایت سے پچاس روپے فی کلو ‘ گھی کوکنگ آئل اور چکن دس روپے فی کلو اور انڈے پانچ روپے فی درجن کی کم قیمت پر دستیاب ہونگے۔ اسی طرح گوجرانوالہ ریجن میں 49 رمضان بازار لگائے گئے ہیں جن میں سے ضلع گوجرانوالہ میں 17‘سیالکوٹ میں7‘ گجرات میں 10‘ منڈی بہااؤلدین میں 5 رمضان بازار لگائے گئے ہیں جو عوام کو مناسب نرخوں پر معیاری اشیائے خوردونوش نوش فراہم کررہے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں رمضان بازاروں کے انتظامات کی نگرانی کیلئے صوبائی وزراء اور اعلی افسران کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں اس سلسلہ میں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز بھی مکمل تعاون فراہم کریں گے۔وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے قیمتوں کی نگرانی کیلئے 1700 پرائس مجسٹریٹس‘ سحر وافطار کے لئے 2000 مدنی دستر خواں اور اشیائے خوردنوش کے وزن اور پیمائش کیلئے کاؤنٹر پر قابل اور مستعد عملے کو تعین کیاہے تاکہ وہ کم تولنے اور پیمائش کرنے پر کڑی نظر رکھیں۔سپیشل برانچ نے گوجرانوالہ ڈویژن کے51 رمضان بازاروں کی مانیٹرنگ شروع کردی ہے‘ ناقص اشیاء‘ ریٹ لسٹیں آویزاں نہ کرنے پر تصاویر اور فوٹیج بناکر وزیراعلی پنجاب سپیشل مانیٹرنگ برانچ میں بھجوائی جارہی ہیں۔ کمشنر گوجرانوالہ‘ ڈپٹی کمشنر وممبر قومی و صوبایے اسمبلی‘ اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر افسران رمضان بازاوں میں عوامی شکایات کے تدارک کیلئے دورے کررہے ہیں تکاکہ خریداروں کو پریشانی نہ ہوسکے۔
ہمارے معاشرے میں یہ بری رسم رائج ہے کہ رمضان المبارک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور دکاندار اس مہینے من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں اور اسے کمائی کا خاص موسم سمجھتے ہیں۔ یہ ذہنیت اسلامی روح کے یکسر خلاف ہے اس کے برعکس ہونا یہ چاہئیے کہ اس ماہ مبارک میں قیمتیں کم اور دکاندار منافع کم کریں اس میں خریدار سے جس قدر رعایت ہوگی وہ بھی صدقہ میں شمار ہوگی۔ رمضان میں ہر کام کا اجر و ثو اب ستر گناہ بڑھ جاتاہے اس کا ایک ایک لمحہ ہزاروں برس کی زندگی اورطاعت و عبادت سے بھاری اورقیمتی ہے اس میں خیر کے طلبگاروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور شر کے متلاشیوں کار استہ روکا جاتاہے اس ماہ میں اللہ تعالی براہ راست اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دست شفقت سے رحمت ومغفرت کے پروانے بانٹنے لگتے ہیں۔ یہی وہ مہینہ ہے جس کے روزے سے عاصی وخطا کار بندے کے منہ کی بو اللہ تعالی کو مشک وعنبر سے زیادہ پسند آتی ہے اس میں اللہ تعالی جہنم کے دروازے بند اور جنت کے تمام دروازے کھول دیتے ہیں تاکہ سال بھر کے گنہگار تائب ہو کر جنت میں داخل ہوسکیں۔ اس میں وہ بابرکت رات ہے جس کی عبادت ہزار مہینہ کی عبادت سے بہتر ہے اور یہی وہ مقدس مہمان ہے جو بارگاہ الہی میں اپنا اکرام کرنے والوں کی سفارش کرے گا اور اس کی سفارش قبول ہوگی۔ یہ ایک ایسا انقلابی مہینہ ہے اگراس کے آداب کوصحیح طور پر بجالایا جائے اور پوری امت اس کی برکتوں اور سعادتوں کو حاصل کرنے کی طرف متوجہ ہوجائے تو اس امت کی کایا پلٹ سکتی ہے اور آسمان سے خیر ورحمت کے دائمی فیصلے نازل ہوسکتے ہیں۔

Share this

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow