شہ سرخیاں

جامعات کے وائس چانسلرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم کا اثاثہ

یوں تو ریاست جموں و کشمیر کے خطہ آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام حکومت کے تحت” آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر ” کے نام سے ایک حکومت قائم ہے۔جس کے انتظامی سربراہ وزیراعظم اور آہئنی سربراہ صدر ریاست ہوتے ہیں۔اگرچہ زیادہ تر اختیارات وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں اور کچھ اختیارات صدر ریاست کو بھی حاصل ہیں یوں توصدر ریاست کے پاس محدوداختیارات ہوتے ہیں جن میں جامعات کے وائس چانسلرز کی تعنیاتی، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کے ججز کی تعنیاتی،پبلک سروس کمشن کے چئیرمین و ممبران کی تعنیاتی اور محتسب اعلی کی تعنیاتی وغیرہ وغیرہ۔ باقی تمام معاملات میں غالبا صدر ریاست وزیر اعظم کی ایڈوائس کے پابند ہیں لیکن جامعات کے وائس چانسلرز کی تعنیاتی کے لیے کسی قسم کی ایڈوائس کے پابند نہیں ہیں۔جناب صدر ریاست کا تعلق ایک ایسے قبیلے سے ہے جس نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف بغاوت کی اور منگ کے مقام پر زندہ کھالیں کھنچوالیں مگر سمجھوتا نہیں کیا۔اور یہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جناب صدرریاست محترم غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے غالبا پوتے ہیں۔جہنوں نے 1947میں مہاراجہ ہری سنگھ سے بغاوت کرتے ہوئے کرتے ہوئے قرا رداد الحاق پاکستان کی منظور کروائی اور پھر ایک انقلابی حکومت کی صدارت قبول کی جب بڑے بڑے نام عہدہ صدارت کو قبول کرنے سے انکاری تھے۔جناب صدر کو چاہے کہ اپنے ابا واجداد کی روایات و برقرار رکھتے ہوئے اپنے اختیارات کا جائز استعمال کریں اور کسی کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں۔ کہنے کو تو وزیر اعظم آزاد حکومت ریات جموں و کشمیر آزاد کشمیر کے وزیر اعظم ہیں لیکن گذشتہ ایک سال کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ موصوف صرف ایک مخصوص علاقہ اور ایک مخصوص قبیلہ کے وزیر اعظم ہیں۔موصوف کے نزدیک کسی بھی عہدہ کے لیے متعلقہ فرد کے پاس یا تو مظفرآباد کا ڈومیسائل ہو یا پھرموصوف کہ قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو۔
جناب صدر ریاست آپ کو معلوم ہونا چائیے کہ موصوف نے آپ کے جائز اختیارات میں مداخلت کرناشروع کر دی ہے اور آپ کے ساتھ ہونے والی تعزیتی ملاقاتوں کو بھی غلط رنگ دیتے ہوئے بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔میرٹ اور گڈ گورننس کی بات تو موصوف اس لیے نہیں کر سکتے کہ جب خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے ٹکٹ کی بات آئی تو مسلم لیگ کی ورکرز نصرت شہناز درانی اور الماس گردیزی کو بری طرح نظر انداز کیااور اسی طرح حکومت سنبھالنے کے بعدمسلم لیگ (ن )کے لیے خون پسینہ بہانے والے کارکنوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کل کلاں کو مسلم لیگ میں شامل ہونے والے لوگوں کا علاقائی اور قبیلائی بنیادوں پر نوازنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جس کی واضح مثال چوہدری شفقت جو کل کل مسلم لیگ میں شامل ہوئے لاکھوں مسلم لیگی کارکنوں کا گلا گھونٹ کر علاقائی بنیادوں پر موصوف کو DGکشمیر کلچرل اکیڈمی لگا دیا اوراسی طرح برادری ازم کو بنیاد بنا کر موصوف نے الیکشن کہ قریب مسلم لیگ میں شامل ہونے والے راجہ فدا حسین کیانی کو DGکشمیر لبریشن سیل لگا دیا۔موصوف پوری طرح برادری ازم اور علاقائی ازم میں ڈھوب چکے ہیں۔
جناب صدر یہ بات یاد رکھیے گا کہ موصوف کہ عزائم بڑے خطر ناک ہیں آپ نے سرچ کمیٹی کی سفارشات پر ایک مرد قلندر کو جامعہ مظفرآباد کے لیے منظوری دیتے ہوئے سمری ارسال کی حالانکہ اس کمیٹی کے چئیرمین معزز عدالت عالیہ کے چیف جسٹس بھی رہے ہیں اور اب سپریم کورٹ کے جج بھی ہیں۔جنہوں نے صاف شفاف طریقے سے ایک پینل ترتیب دیا جس میں نمبر ون پر ڈاکٹر کلیم عباسی صاحب تھے جن کی سمری منظوری کے بعدنوٹیفیکشن کے لیے ارسال کی لیکن محترم وزیر اعظم نے اس فائل کو اس لیے دبا کر رکھا ہوا ہے کے جناب ڈاکٹر کلیم عباسی صاحب کا تعلق نہ تو مظفرآباد سے ہے اور نہ ہی وزیراعظم کی برادری سے۔جناب بات یہاں تک ہی نہیں رکھتی بلکہ گزشتہ عرصہ سے موصوف باغ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹرمحمد حلیم خان کو مختلف محکمہ جات کے ذریعے ہراساں کیا ہوا ہے۔اور احتسیاب بیورو کے چئیرمین کو یہ لالچ دے رکھی ہے کہ آپ کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے گی اگر آپ ڈاکٹر محمد حلیم خان کے خلاف کاروائی کریں۔ جبکہ دونوں پروفیسر صاحبان اپنی اپنی فلیڈ میں کوئی ثانی نہیں رکھتے دونوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ ان میں ایک کا تعلق بھی مطفرآباد سے نہیں ہے اور نہ ہی جناب وزیراعظم کی برادری سے ۔
جناب صدرموصوف کی یہ شدید خواہش ہے کہ وہ دونوں جامعات میں اپنی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو وائس چانسلر تعنیات کروایں۔جامعہ مظفرآبادمیں ان کی شدید خواہش ہے کہ ڈاکٹر راجہ محمد قیوم خان کو وائس چانسلر لگایا جائے نہیں توعلاقائی بنیادوں کسی اورکو، اور جامعہ باغ میں ڈاکٹر راجہ محمد خان کو ۔جامعہ باغ کے وائس چانسلرکے خلاف کاروائی کا ٹاسک چئیرمین احتسیاب بیورو کو مدت ملازمت میں توسیع کا لالچ دے کر دے رکھا ہے۔جہاں تک میری معلومات ہیں تو ان تینوں عہدوں پر تعنیاتی کا اختیار تو جناب کے پاس ہے اور جہان تک جامعات میں وائس چانسلرز کی تعنیاتی کی بات ہے اس میں تو تمام تر اختیارات صدارتی سیکرٹریٹ کو حاصل ہیں۔
جناب صدر آپ بڑے قد کاٹھ کے مالک ہیں آپ نے ملک پاکستان کی نمائندگی کی ہے �آپ سے قبل سردار محمد یعقوب خان صدر آزاد کشمیر رہے انھوں نے صحیح معنوں میں اپنے حاصل کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک اچھا حکمران ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اگرچہ جناب کی زیادہ عمرملازمت میں گزری ہے اور جناب ایک اچھے سفارتکار رہے اور سفارتکاری میں اپنے جوہر دکھائے ہیں اور انداز حکمرانی سے تو آپ اس لیے بھی واقف ہوں گے کہ آپ غازی ملت کے پوتے جو ٹھہرے۔اپنے قبیلے کی لاج رکھیے گا اور وزیر اعظم کے آنسو پہ نہ جائیے گا کیوں کہ مگر مچھ کے آنسو کھانے کہ اور اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔اگر کوئی تعزیتی کلمات کہنے کے لیے آئے اور اس کو سازش کا نام دے کر بلیک میل کیا جائے اوریو ں وزیراعظم موصوف کی بلیک میلنگ میں آ کر گھٹنے ٹیک کر ممنوں ثانی کا کردار ادا کیا تو پھر سردار خالد ابراہیم کی دور اندیشی کو سلام۔
جناب صدر یاد رکھیے گا کہ اگر ڈاکٹر کلیم عباسی، ڈاکٹر حلیم خان اور ڈاکٹر دلنواز گردیزی کو اگر اس بات کی سزا دی گئی کہ ان کا تعلق وزیراعظم موصوف کی برادری یا علاقہ سے نہیں ہے تو پھراللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔زوز محشر ان کے ہاتھ ہوں گے اور آپ کا گریبان کیونکہ جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری کا اختیار تو آپ کے پاس ہے۔ڈاکٹر کلیم عباسی پاکستان بھر کے پروفیسرز سے مقابلے کے بعد اگر جامعہ ہری پور میں وائس چانسلر تعینات ہو سکتے ہیں تو جامعہ کشمیر میں کیوں نہیں۔اسی طرح احتساب بیورو میں میر پور یونیورسٹی اور کوٹلی کے معاملا ت بھی زیر کار ہیں وہاں کاروائی اس لیے نہیں ہو رہی کہ ایک تو مدت ملازمت پوری کر چکے اور دوسرے وزیر اعظم موصوف کی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔اور محض ڈاکٹر حلیم خان کو تختہ مشق بنانا کہاں کا انصاف ہے۔ڈاکٹر کلیم عباسی کی ہری پور میں بطور وائس چانسلر تعیناتی کے بعد میرٹ پر دوسرے نمبر پر آنے والے ڈاکٹر دلنواز گردیزی کو محض اس لیے وائس چانسلر نہ لگایا جائے کہ ان کا تعلق وزیراعظم کے علاقہ سے نہیں ہے تو پھر یہ کہاں کا انصاف ،میرٹ اور گڈ گورننس ہے۔
جناب صدر جامعات کسی بھی ملک میں بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور یورپ بھر میں تو اساتذہ کے احترام میں ججز بھی کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن یہاں کیا ہو رہا ہے۔جناب صدرو وزیراعظم پروفیسرصاحبان کی یوں تذلیل نہ کریں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کچھ غلط ہو رہا ہے تو پھر ایک اعلی سطح کا کمیشن تشکیل دیں وہ کمیشن عدالتی ہو، پارلیمانی ہو،HECکی منظور شدہ جامعات کے وائس چانسلرز پر مبنی ہو یا پھر JITتشکیل دی جائے جس کے اپنے مفادات نہ ہوں۔جن کو اپنے عزیز واقارب کی تعیناتی نہ کروانی ہو ایک غیر جانبدار،صاف اور شفاف تحقیق کروا کر یہ روز روز کی ہرزہ سرائی کے بجائے وائس چانسلرکے عہدہ کے وقا رکو بحال کریں اور جو قصور وار ہیں ان کو قرارواقعی سزا دیتے ہوئے نشان عبرت بنائیں تاکہ نظام تعلیم بہتر ہو سکے۔جس طرح آپ نے جامعہ کوٹلی کے لیے ایک غیر جانبدار سرچ کمیٹی تشکیل دی ہے۔
جناب صدر آپ کو اپنا ہونے کا احساس دلانا ہو گامیں یہ نہیں کہتی کے آپ حکومت سے اختلاف کریں لیکن اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے جائز اختیارات تو استعمال کریں۔جامعات،عدلیہ،احتساب بیورو، اور محتسب وغیرہ کے اداروں کو ٹھیک کریں تاکہ عام لوگوں کو انصاف مل سکے۔جناب والا اس سے قبل کہا جاتا کے آزاد کشمیر کی تاریخ میں کبھی بھی کسی صدر ریاست کی منظور کردہ سمری کسی بھی وزیراعظم نے نہیں روکا اور نہ ہی تبدیل کروایا۔جناب والا اگر آپ کچھ نہیں کر سکتے تو پھرممنوں ثانی کا کردار ادا کرنے کے بجائے استعفی دیں اورگھر چلے جائیں۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہواور وزیراعظم کو ہدایت کاملہ عطا کرے۔

Share this

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow