شہ سرخیاں

اسلام میں پڑوسی کے حقوق اور معاشرہ پر اسکے اثرات**امیر افضل اعوان

دین اسلام میں ہر تعلق، رشتے اور انسان سے وابستہ ہر فرد کی اہمیت، احترام اور مقام کی بہت وضاحت کے ساتھ تفصیل بیان کی گئی ہے، بلاشبہ دین اسلام وہ دین ہے کہ جس میں غیر مسلموں کو بھی ان کے بنیادی حقوق سے سرفراز کیا گیا، یہ وہ آفاقی مذہب ہے کہ جس میں گھر کے افراد کے ساتھ ساتھ غلام اور لونڈی کے حقوق کے تحفظ کا حکم دیا گیا اور یہ ہی وہ دین حق ہے کہ جس میں جانوروں تک کے بنیادی حقوق بڑی ہی وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں، اس حوالہ سے اگر دیکھا جائے تو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ اسلامی رشتہ اور ایمانی اخوت ہی دین کا خلاصہ اور احکام کا لب لباب ہے،ہر مسلمان ان کے ساتھ اور ان کیلئے جیتا ہے اور یہ ایسا عقیدہ ، ایسے شعائر اور ایسے روابط ہیں جو باہم ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں ، اسلام میں جہاں رشتہ داری کی اہمیت بیان کی گئی ہے وہیں رشتہ داروں کے علاوہ ان افراد کی جن کے ساتھ کوئی بھی مومن میل جول رکھتا ہے ، ان کے حقوق کا بیان موجود ہے ، بلکہ ہمسایہ کی اہمیت تو اس کے غیر مسلم ہونے کے باوجود مسلمہ ہے، اس حوالہ سے ہمسایوں کو 3درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے،پہلا وہ جو غیر مسلم ہو اس کا حق ایک درجہ ہے دوسراجو مسلمان ہو مگر رشتہ دار نہ ہو اس کا حق دو درجے ہے یعنی وہ پڑوسی بھی ہے اور مومن بھی اسی طرح تیسرا وہ جو ہمسایہ بھی ہے رشتہ دار ہے اور مومن بھی، تو اسلام میں اس کا تفصیلی ذکر موجود ہے تاکہ ایک مستحسن معاشرہ قائم ہوسکے۔
اسلام میں ہمسایہ کے بھی حقوق کا خاص طور پر ذکر کیا گیا، قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ ’’ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسائے سے، اور پہلو کے ساتھی سے، اور راہ کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں (غلام، کنیز) یقیناًاللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ سورۃ النساء، آیت 36،اس آیت مبارکہ میں قرابت دار پڑوسی کے حوالہ سے استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ایسا پڑوسی جس سے قرابت داری نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ پڑوسی سے بہ حیثیت پڑوسی کے حسن و سلوک کیا جائے رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار احادیث مبارکہ میں بھی اس کی بڑی تاکید کی گئی ہے، یہاں پہلو کے ساتھی سے مراد رفیق سفر، شریک کار، بیوی اور وہ شخص ہے جو فائدے کی امید پر کسی کی قربت و ہم نشینی اختیار کرے بلکہ اسکی تعریف میں وہ لوگ بھی آسکتے ہیں جنہیں تحصیل علم یا کوئی کام سیکھنے کے لئے یا کسی کاروباری سلسلہ میں آپ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے، راہ کے مسافر میں گھر، دکان اور کارخانوں، ملوں کے ملازم اور نوکر چاکر بھی آجاتے ہیں۔
سورۃ النساء کی اس آیت مبارکہ میں تین قسم کے ہمسایوں کا ذکر آیا ہے، ایک وہ جو ہمسائے بھی ہوں اور رشتہ دار بھی ہوں، دوسرے وہ جو تمہارے پہلو میں یا تمہارے مکان کے پاس تو رہتے ہوں مگر تمہارے رشتہ دار نہ ہوں، تیسرے وہ جو تمہاری سوسائٹی سے متعلق ہوں مثلاً وہ دوست احباب جو ایک جگہ مل بیٹھتے ہوں یا کسی دفتر میں یا دوسری جگہ اکٹھے کام کرتے ہوں اور اکثر میل ملاقات رہتی ہو، حسن سلوک تو ان سب سے کرنا چاہیے، تاہم اسی ترتیب سے ان کا خیال ضرور رکھا جائے، سب سے زیادہ حقدار رشتہ دار ہمسائے ہیں، پھر ان کے بعد اپنے گھر کے آس پاس رہنے والے ہمسائے، اور ایک روایت کے مطابق ایسے ہمسایوں کی حد چالیس گھروں تک ہے پھر ان کے بعد ان ہمسایوں کی باری آتی ہے جو اپنے ہم نشین، ہم جماعت یا ساتھ کام کرنے والے ہوں۔
اسلام نے مختلف وسعت پذیر دائروں میں مسلم معاشرے کی زندگی منظم کرنے کی طرف سب سے زیادہ توجہ دی ہے تا کہ پورا معاشرہ منظم ہو جائے، اس سلسلے میں والدین اور رشتہ داروں کے حقوق سے شروع ہو کر یہ سلسلہ پڑوسیوں ، دوستوں اور آشناؤں سے ہوتا ہوا غریبوں اور غیر مسلموں تک جاتا ہے،اہل علم کہتے ہیں کہ پڑوس کے دائرے کو جس قدر ممکن ہو وسعت دی جائے، ایک حدیث مبارکہ میں ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جسے اللہ اور روز قیامت پر ایمان ہے، اسے اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچانا چاہئے ‘‘صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث174، ہمسایہ کے حقوق بارے ایک اور حدیث مبارکہ میں انسؓ سے مروی ہے کہ ’’ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی شخص کا ایمان اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل مستقیم نہ ہو، اور دل اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک زبان مستقیم نہ ہو، اور کوئی ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہو‘‘ مسند احمد، جلد پنجم، حدیث2016، اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک یہ بات نہ ہو کہ جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہو وہی اپنے بھائی کے لئے یا پڑوسی کے لئے پسند کرے‘‘صحیح مسلم، جلد اول، حدیث172، ذرا غور فرمائیے کہ اسلام میں ہمسایہ کی کتنی اہمیت ہے کہ ہمسایہ کو ستانے والا جنت میں ہی نہیں جاسکتااور یہ کہ جو شخص اللہ پا ک اور رسول کریم ﷺپر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔
پڑوسی کے اکرام و احترام کے حوالہ سے بھی اسلام میں خاص اہمیت اور وضاحت موجود ہے ، ایک حدیث شریف میں عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺمیرے دو پڑوسی ہیں ان میں سے کس کو ہدیہ بھیجوں آپ ﷺنے فرمایا اس کو جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو‘‘صحیح بخاری، جلد اول، حدیث2166، ایک اور حدیث مبارکہ میں ابوہریرہؓ سے روایت ہے، آپ ﷺنے فرمایا کہ اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ بھیجے‘‘صحیح بخاری، جلد اول، حدیث2460، ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ’’ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا اللہ کی نگاہوں میں بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے حق میں بہتر ہو اور بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں اچھا ہو‘‘مسند احمد، جلد سوم، حدیث2063، یہاںیہ امر قابل غور ہے کہ پڑوسی سے اچھے سلوک پر آپ خالق کائنات کی نظر میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں اسی طرح اگر آپ کے اپنے ہمسائے کے ساتھ روئیے یا روابط ٹھیک نہیں تو پھر سوچئے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔
دور حاضر میں معاشرتی نفسانفسی کا یہ عالم ہے کہ آج ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکامات کو پس پشت ڈال کر زندگی بسر کررہے ہیں، ہم خود کو بڑے فخر سے مسلمان کہتے ہیں، مگر اسلامی تعلیمات اور احکامات الٰہی بارے ہماری معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اگر کچھ معلوم ہے بھی تو اس پر عمل کا فقدان ہمارے قول و فعل کے تضاد کی طرح اس قدر حاوی ہے کہ اللہ کی پناہ، ایک حدیث مبارکہ میں ہمسایہ کے حقوق بارے فرمایا گیا ’’ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا جس شخص کو نرمی کا حصہ دیا گیا، اسے دنیا و آخرت کی بھلائی کا حصہ مل گیا اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور اچھی ہمسائیگی شہروں کو آباد کرتی ہے اور عمر میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔‘‘ مسند احمد، جلد نہم، حدیث5212، ایک اور حدیث شریف میں بیان ہے کہ ’’ ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کون آدمی ہے جو مجھ سے پانچ باتیں حاصل کرے اور ان پر عمل کرے یا کم از کم کسی شخص کو بتادے جو ان پر عمل کرے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں کروں گا، نبی کریم ﷺنے میرا ہاتھ پکڑا اور انہیں شمار کرنے لگے ، (۱) حرام کاموں سے بچوسب سے بڑے عابد بن جاؤ گے (۲) اللہ کی تقسیم پر راضی رہو سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے (۳) پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو مومن بن جاؤ گے (۴) جو اپنے لیے پسند کرتے ہو لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو مسلمان بن جاؤ گے (۵) کثرت سے نہ ہنسا کرو کیونکہ کثرت سے ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے‘‘ مسند احمد، جلد چہارم، حدیث927، قربان جائیے محمد مصطفی ﷺ کے کہ آپ ﷺ نے چند الفاظ میں ہی دونوں جہانوں کی کامیابی کا کیسا پیارا نقشہ کھینچ دیا۔
دین اسلام میں ایک جانب یہ بتایا جارہا ہے کہ جو پڑوسی کاخیال نہ رکھے تو اللہ پاک اس سے ناراض ہوجائے گا، یہ بھی کہ جو اپنے ہمسائے کو ستائے وہ مومن ہی نہیں تو ایک جانب یہ بھی وضاحت کی جارہی ہے کہ ایسے شخص کی عبادات بھی قبول نہیں اور وہ جہنم میں جائے گا، اس سلسلہ میں ایک حدیث پاک میں ٓتا ہے کہ ’’ ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ فلاں عورت کثرت سے نماز، روزہ اور صدقہ کرنے میں مشہور ہے لیکن وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو ستاتی ہے نبی کریم ﷺنے فرمایا وہ جہنمی ہے پھر اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ فلاں عورت نماز، روزہ، اور صدقہ کی کمی میں مشہور ہے وہ صرف پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو نہیں ستاتی فرمایا وہ جنتی ہے‘‘ مسند احمد، جلد چہارم، حدیث2477، ہمسایہ کی اہمیت ایک حدیث مبارکہ میں اس طرح بیان کی گئی ہے ’’ ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹیاں گاڑنے سے منع نہ کرے پھر ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ کیا بات ہے کہ میں تم کو اس حدیث سے روگردانی کرنے والا پاتا ہوں واللہ میں تمہارے مونڈھوں کے درمیان گاڑ کر رہوں گا‘‘ صحیح بخاری، جلد اول، حدیث62 23،
حقوق ہمسائیگی کا اسلام میں اس قدر بیان ہے کہ ایسا محسوس ہونے لگا گویا کہ پڑوسی آپ کے گھر یا خاندان کا ہی ایک شخص ہو ، اس بارے میں ایک حدیث مبارکہ میں بیان ہے ’’ ایک انصاری صحابیؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺکھڑے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے جس کا چہرہ نبی کریم ﷺ کی طرف ہے میں سمجھا کہ شاید یہ دونوں کوئی ضروری بات کر رہے ہیں بخدا! نبی کریم ﷺاتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے نبی کریم ﷺ پر ترس آنے لگا جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (ﷺ) یہ آدمی آپ کو اتنی دیر لے کر کھڑا رہا کہ مجھے آپ ﷺپر ترس آنے لگا نبی کریم ﷺنے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم ﷺنے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم ﷺنے فرمایا وہ جبرائیل ؑ تھے جو مجھے مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کر رہے تھے حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی حصہ دار قرار دے دیں گے پھر فرمایا اگر تم انہیں سلام کرتے تو وہ تمہیں جواب ضرور دیتے۔‘‘ مسند احمد، جلد نہم، حدیث3088، ہمسایہ کے حق وراثت تک جا پہنچنے کے خدشات بارے اور بھی احادیث منقول ہیں،جن میں کوئی ابہام باقی نہ ہے۔
پڑوسیوں کے حقوق کے حوالے سے معاذ بن جبلؓ سے منقول ہے کہ ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! پڑوسی کا حق کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر وہ تجھ سے قرض مانگے تو اسے قرض دے ، اگر تجھ سے مدد مانگے تو اسے مدد مہیا کر ، اگر ضرورت مند ہو تو اسے عطا کر ، اگر بیمار ہو تو اس کی تیمارداری کر ، اگر فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے پیچھے جا ، اگر اسے کوئی خیر پہنچے تو تجھے خوشی ہو اور اسے مبارکباد دے ، اگر اسے کوئی مصیبت پہنچے تو تمہیں بھی اس کی تکلیف محسوس ہو تو اسے تسلی دے اور اسے اپنی ہنڈیا کی مہک سے تکلیف نہ پہنچا بلکہ اس میں سے اسے بھی دے ۔فخر سے اس سے اونچی عمارت نہ بنا کہ تو اس کے گھر جھانکتا پھرے اور ہوا بند کر دے البتہ اس کی اجازت سے ایسا کر سکتے ہو ۔ اگر تو کچھ خریدے تو اس میں سے اسے بھی بطور ہدیہ کچھ دے ورنہ اسے رازداری سے لے کر آ اور تیرا لڑکا کوئی ایسی چیز لے کر نہ نکلے جس سے اس کا مقصد اس کے لڑکے کو جلانا یا چڑانا ہو ، اسی طرح ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ آپ ْ ﷺ نے سیدنا ابو ذرؓ سے فرمایا ‘ابو ذر جب تم سالن پکاؤ تو اس کا شوربا زیادہ کر لیا کرو اور اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھو۔’ (مسلم۔ ایضاً)اسی بات کو ایک اور حدیث میں اور ذیادہ وضاحت کے ساتھ بیا ن کیا گیا کہ ’’ آپ ﷺنے فرمایا وہ شخص مسلمان نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھاتا ہے اس حال میں کہ اس کا ہمسایہ بھوکا رہے‘‘ ‘ (شعب الایمان للبیہقی)
صحیح مسلم میں ابو ہریرہؓ سے ایک حدیث منقول ہے کہ وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کی شرارتوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہیں ہو گا ، ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ میں جائے رہائش کے برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ صحراء کا پڑوسی تو جگہ بدل لیتا ہے ( احمد ، بخاری ، نسائی وغیرہ )، ایک اور حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ ﷺنے تین بار یہ الفاظ دہرائے ‘اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں’ صحابہؓ نے پوچھا ‘کون یا رسول اللہ ﷺ !’ فرمایا ‘جس کی ایذا دہی سے اس کا ہمسایہ امن میں نہ ہو۔’ (بخاری، کتاب الادب، باب اثم من لا یامن جارہ بوائقہ)غور فرمائیے کہ اسلام میں ہمسایہ کی کیا اور کتنی اہمیت ہے اور پھر ان احادیث میں جو حقوق بیان کیے گئے ہیں وہ بڑے واضح ہیں جن کی شرح و تفصیل کی ضرورت نہیں اور پڑھنے کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہمسائے بھی اپنے ہی گھر کے افراد ہیں اور یہ بھی غور فرمائیے کہ اگر ان ارشادات نبوی ﷺ پر عمل کیا جائے تو معاشرہ میں کس قدر خوشگوار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔

Share this

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow