شہ سرخیاں

25سال بعد بھی بوسنیا کے زخم تازہ ہیں

بوسنیا کی لڑائی کو 25 سال گزر گئے ، لیکن اس کے زخم ان مائوں کے لئے آج بھی تازہ ہیں جن کے جوان بیٹے اور جوان بیٹیاں جنگ کی نذر ہو گئیں ۔ اس جنگ کا ماجرا کچھ یوں ہے کہ یوگوسلاویہ بکھرنے کے بعد سربیا، کروشیا اور سلووینیا میں لڑائی چھڑی ہوئی تھی کہ بوسنیا ہرزیگووینا نے بھی اپنی آزادی کا اعلان کردیا ۔ بوسنیا ہرزیگووینا میں سرب عیسائی ، کروٹس اور بوسنیک مسلمان مل کر رہتے تھے تاہم مسلمانوں کی اکثریت تھی ۔ یوگوسلاویہ ٹوٹنے کے بعد سربیا کی مملکت بوسنیا کو بھی اپنے زیر نگیں رکھنا چاہتی تھی ۔ بلغراد کے انتہا پسند چاہتے تھے کہ   گریٹ سرب    ریاست قائم کریں اور جہاں جہاں سرب رہتے ہیں وہ ان کی سرزمین ہو ۔ 3 مارچ 1992 ء میں بوسنیا کے عوام نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے آزادی کے حق میں فیصلہ دیا اور علی جاہ عزت بیگووچ کو صدر منتخب کیا ۔

Share this

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow