شہ سرخیاں

نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ متفقہ ہے ، بنیاد مختلف ہوسکتی ہے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں پاناما فیصلے کے خلاف شریف خاندان کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت، عدالت نے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کو کل تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

سپریم کورٹ میں نظر ثانی کیس کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا عدالت نے نوازشریف کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل کیا، نواز شریف کو شوکاز نوٹس دے کر وضاحت کا موقع ملنا چاہیے تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا 20 اپریل کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا، اس کا مطلب ہے کہ دو ججز کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کو تسلیم کیا گیا۔ خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دو ججز کا 20 اپریل کا فیصلہ اقلیت کا تھا، عدالت کا اکثریتی فیصلہ تسلیم کیا گیا۔ وکیل نواز شریف نے کہا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کا طریقہ کار مختلف ہے، عدالت نے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا، جبکہ فیصلہ دینے والے جج کو ہی نگران بنا دیا گیا، اس طرح کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، ٹرائل کورٹ کو آزادانہ ٹرائل کا موقع ملنا چاہیے، عدالت نے جے آئی ٹی ارکان کی فیصلے میں تعریف کی جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ تعریف تو ہم نے آپکی بھی کی ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا ٹرائل کورٹ میں تحقیقات کے شواہد اور جے آئی ٹی ارکان پر جرح کا موقع ملے گا۔ بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ متفقہ ہے، بنیاد مختلف ہوسکتی ہے ، عملدرآمد بنچ نے پانچ رکنی بنچ کی ہدایات پر ہی چلنا تھا، ٹرائل کورٹ آزادی سے فیصلہ کرے گی۔

Share this

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow